SKU: 7064835335

اردو کا ابتدائی زمانہ | Urdu Ka Ibtedai Zamana | شمس الرحمن فاروقی

Sale price$180.00 Regular price$200.00
Save 10%

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 13 - Jul 18

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

اردو کا ابتدائی زمانہ | Urdu Ka Ibtedai Zamana | شمس الرحمن فاروقی: : : 1949 50 30 1935 1957 1966 39 2005 1996 1980 : 1990 2006 2009 2010 :

کتاب: تعارف

شمس الرحمٰن فاروقی کو تنقیدوتحقیق کے باب میں دوسرا حالی مانا جاتا ہے۔زیرِنظر کتاب دراصل ایک مضمون تھا جو شکاگو یونیورسٹی کی فرمائش پر لکھا گیا۔اردو زبان کا آغازاور اس کی تشکیل وفروغ پرمدلل و مستند کلام کیا گیا ہے جو اردوادب کے محققین کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔یہ کتاب ۱۹۹۹ میں شائع ہوئی۔

مصنف: تعارف

وہ سات بھائیوں میں سب سے بڑے اور تیرہ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ پڑھنے لکھنے سے دلچسپی ورثے میں ملی تھی۔ دادا حکیم مولوی محمد اصغر فاروقی تعلیم کے شعبے سے وابستہ تھے اور فراق گورکھ پوری کے استاد تھے۔ نانا محمد نظیر نے بھی ایک چھوٹا سا اسکول قائم کیا تھا جو اب کالج میں تبدیل ہوچکا ہے۔

اسکول کے دنوں میں ہی شاعری سے ادبی زندگی کا آغاز کیا۔ سات سال کی عمر میں ایک مصرع لکھا :’’معلوم کیا کسی کو میرا حال زار ہے‘‘۔ مگر مدتوں اس پر دوسرا مصرع نہ لگ سکا۔ پہلا ہی شعر مکمل نہ ہوا تو شاعری کا پیچھا چھوڑ دیا اور ایک قلمی رسالے گلستان کی ترتیب و اشاعت شروع کردی۔ رسالہ کیا تھا یہ سمجھئے کہ سولہ یا بیس یا چوبیس صفحات کاٹ کر ان پر اپنی ’’تصنیفات‘‘ درج کرتے جاتے۔ والد کی نظر سے یہ رسالہ گزرا تو انہوں نے ٹوکا کے تم نے بعض اشعار ناموزوں درج کئے ہیں۔ والد نے ہر مصرع کی تقطیع کرکے سمجھایا کہ کہاں غلطی ہوئی ہے۔ فعولن فعولن کی تکرار انہیں اتنی اچھی لگی کہ اسی دم ارادہ کرلیا کہ آئندہ زمانے میں عروضی ضرور بنیں گے۔ میٹرک کے بعد افسانہ نگاری کا باقاعدہ آغاز ہوا مگر انہیں نہ اپنے پہلے افسانے کا نام یاد رہا نہ اس پرچے کا جس میں وہ افسانہ چھپا تھا۔ 1949-50ء میں ایک ناولٹ ’’دلدل سے باہر‘‘ تحریر کیا جو معیار میرٹھ میں چار قسطوں میں شائع ہوا پھر نثر کو ہی ذریعہ اظہار بنالیا۔

فاروقی صاحب 30 ستمبر 1935ء کو ضلع پرتاپ گڑھ میں پیدا ہوئے تھے، جو ان کا نانہال تھا۔ اپنے آبائی وطن اعظم گڑھ سے میٹرک اور گورکھ پور سے گریجویشن کرنے کے بعد الٰہ آباد یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔الٰہ آباد میں وہ ایک عزیز کے یہاں رہتے تھے جن کے گھر سے یونیورسٹی کئی میل دور تھی۔ وہ اکثر پیدل ہی آیا جایا کرتے تھے، اس وقت بھی ان کے ہاتھ میں کتاب کھلی ہوتی اور وہ ورق گردانی کرتے ہوئے چلتے رہتے۔ وہ زمانہ ہی اور تھا، راستے والے ان کے مطالعے کی محویت دیکھتے ہوئے خود ہی انہیں راستہ دے دیتے۔

الٰہ آباد یونیورسٹی سے انہوں نے انگریزی میں ایم اے کیا اور اس شان سے کہ یونیورسٹی بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ان کی تصویرانگریزی روزنامے امرت بازار پتریکا میں شائع ہوئی تو تمام خاندان والوں نے اس پر فخر کیا۔ اس زمانے میں ان کی ملاقات اپنی کلاس فیلو جمیلہ خاتون ہاشمی سے ہوئی جو ان کی ذہانت سے بہت متاثر تھیں، یہی جمیلہ ہاشمی بعد میں جمیلہ فاروقی کے نام سے خاندان کی بہو بنیں۔

ایم اے کے بعد شمس الرحمن فاروقی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے مگرساتھ ہی مقابلے کے امتحان کی تیاری بھی کرتے رہے۔ 1957ء میں انہوں نے یہ امتحان پاس کیا اور انہیں پوسٹل سروس کے لئے منتخب کرلیا گیا۔ اس کے بعد ان کی پوسٹنگ ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہوتی رہی اور انہیں بیرون ملک سفر کے بھی بہت مواقع میسر آئے۔

اسی دوران شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی مضامین اور تراجم شائع ہونا شروع ہوئے جس نے ادبی دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند ادبی تحریک کا زور ٹوٹ رہا تھا۔ ترقی پسند ادیبوں نے فاروقی صاحب کو جدیدیت اور ادب برائے ادب کا علم بردار سمجھ کر انہیں اپنا حریف سمجھنا شروع کیا مگر فاروقی صاحب اپنے محاذ پر ڈٹے رہے۔ ان کی علمیت اور وسعت مطالعہ حیران کن تھی، تجزیہ کاری اور ترکیب کاری کے اوصاف نے ان کی تنقید میں استدلال کا ایک منفرد انداز پیدا کردیا تھا جس سے ان کے حریف بھی متاثر ہوئے۔

جون 1966ء میں شمس الرحمن فاروقی نے ایک ادبی رسالے ’’شب خون‘‘ کی بنیاد رکھی۔ گو اس رسالے پر ان کا نام بطور مدیر شائع نہیں ہوتا تھا لیکن پورا ادبی دنیا کو علم تھا کہ اس رسالے کے روح و رواںکون ہیں۔ شب خون کے پہلے شمارے پر مدیر کی حیثیت سے ڈاکٹر سیداعجاز حسین کا، نائب مدیر جعفر رضا اور مرتب و منتظم کی حیثیت شمس الرحمن فاروقی کی اہلیہ جمیلہ فاروقی کا نام شائع کیا گیا تھا۔ شب خون کو جدیدیت کا پیش رو قرار دیا گیا اور اس نے اردو قلم کاروں کی دو نسلوں کی تربیت کی۔شب خون 39 برس تک پابندی کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔ جون 2005ء میں شب خون کا آخری شمارہ دو جلدوں میں شائع ہوا جس میں شب خون کے گزشتہ شماروں کی بہترین تخلیقات شامل کی گئی تھیں۔

شمس الرحمن فاروقی کے تنقیدی مضامین کے متعدد مجموعے شائع ہوئے جن میں نئے نام، لفظ و معنی، فاروقی کے تبصرے، شعر غیر شعر اور نثر، عروض، آہنگ اور بیان، تنقیدی افکار، اثبات و نفی ، انداز گفتگو کیا ہے ،غالب پر چار تحریریں، اردو غزل کے اہم موڑ، خورشید کا سامان سفر، ہمارے لئے منٹو صاحب،  اردو کا ابتدائی زمانہ اور تعبیر کی شرح کے نام سرفہرست ہیں تاہم تنقید کے میدان میں ان کا سب سے معرکہ آرا کام ’’شعر شور انگیز‘‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں میر تقی میر کی تفہیم جس انداز سے کی گئی ہے اس کی کوئی مثال اردو ادب میں نہیں ملتی۔ اس کتاب پر انہیں 1996ء میں سرسوتی سمان ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ فاروقی صاحب نے ارسطو کی بوطیقا کا بھی ازسرنو ترجمہ کیا اور اس کا بہت شاندار مقدمہ تحریر کیا۔

1980ء کے لگ بھگ شمس الرحمن فاروقی کچھ عرصے کے لئے ترقی اردو بیورو سے وابستہ ہوئے، اس وابستگی نے اس ادارے میں نئی روح پھونک دی۔ ان کے دور وابستگی میں اس ادارے نے نہ صرف یہ کہ اردو کے کلاسیکی ادب اور لغات کو ازسرنو شائع کیا بلکہ کئی نئی کتابیں بھی شائع کیں۔ اس ادارے کا ایک جریدہ بھی اردو دنیا کے نام سے شائع ہونا شروع ہوا جس نے اردو کی کتابی دنیا کو آپس میں مربوط کردیا۔

فاروقی صاحب کی شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا، ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن میں گنج سوختہ، سبز اندر سبز، چار سمت کا دریا اور آسماں محراب کے نام شامل تھے۔ ان کی تمام شاعری کی کلیات بھی ’’مجلس آفاق میں پروانہ ساں‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔ فاروقی صاحب کو لغت نویسی سے بھی بہت دلچسپی تھی ، اس میدان میں ان کی دلچسپی کا مظہر لغات روزمرہ ہے جس کے کئی ایڈیشنز شائع ہوچکے ہیں مگر فاروقی صاحب کا اصل میدان داستان اور افسانہ تھا جس کا اندازہ اس وقت ہوا جب انہوں نے داستان امیر حمزہ پر کام شروع کیا۔ انہوں نے داستان امیر حمزہ کی تقریباً پچاس جلدیں لفظ بہ لفظ پڑھیں اور پھر ان کی معرکہ آرا کتاب’’ساحری ،شاہی، صاحب قرانی: داستان امیر حمزہ کا مطالعہ‘‘ کے عنوان سے منظرعام پر آئی۔ 1990ء کی دہائی میں فاروقی صاحب نے فرضی ناموں سے یکے بعد دیگرے چند افسانے تحریر کئے جنہیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ افسانے شب خون کے علاوہ پاکستانی جریدے آج میں بھی شائع ہوئے۔ بعدازاں ان افسانوں کا مجموعہ ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تب لوگوں نے جانا کہ یہ افسانے فاروقی صاحب کے لکھے ہوئے تھے۔ سوار اور دوسرے افسانے نے فاروقی صاحب کو مائل کیا کہ وہ ہندوستان کی مغلیہ تاریخ کے پس منظر میں کوئی ناول تحریر کریں۔ یہ ناول ’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ناول 2006ء میں پہلے پاکستان سے اور پھر ہندوستان سے شائع ہوا۔ اس ناول نے شائع ہوتے ہی کلاسک کا درجہ حاصل کیا۔ اردو کے تمام بڑے فکشن نگاروں ، نقادوں اور قارئین نے اس کا والہانہ استقبال کیا جس کا اندازہ اس ناول کے متعدد ایڈیشنز اور تراجم کی اشاعت سے لگایا جاسکتا ہے۔ بھارت کے مشہور اداکار عرفان خان اس ناول کو پردۂ سیمیں پر منتقل کرنے کے خواہش مند تھے۔ فاروقی صاحب نے انہیں اس بات کی اجازت بھی دے دی تھی مگر افسوس کہ فاروقی صاحب سے پہلے ہی عرفان خان بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔

شمس الرحمن فاروقی کو2009ء میں حکومت ہند نے پدم شری کے اعزاز سے سرفراز کیا جبکہ2010ء میں حکومت پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز عطا کیا۔ شمس الرحمن فاروقی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری بھی تفویض کی تھی جبکہ انہیں ان کی کتاب ’’تنقیدی افکار‘‘ پر ساہتیہ اکیڈمی کا ایوارڈ بھی عطا ہوا تھا۔

نوٹ : یہ تحریر مشہور محقق عقیل عباس جعفری کی ہے جسے انھوں نے فاروقی صاحب کی وفات پر لکھا تھا۔

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 7064835335

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.3 ★★★★★
Based on 2263 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
D
Verified Purchase
den Braber
Carnegie, US
★★★★★ 1
To fell clean not dirty with this siap
Not a very good soap wouldn't buy it again.very dissatisfied for the price.soap smells like kerosene and barely any suds.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 14, 2026
A
Verified Purchase
Amazon Customer
West Palm Beach, US
★★★★★ 5
Great Value
I'm always looking for a deal on hand and body soap. For the price and what you get they're great. A couple of them aren't my favorite smells, but then again, that's the trade off I made.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 17, 2026
S
Verified Purchase
SYJ
West Palm Beach, US
★★★★★ 5
"Bowser, those Chinese never did stand a chance." - Marine general O.P. Smith
Format: Hardcover
The signs was already there. To anyone that bothered to look. But prejudice and victory fever had blinded the top brass to what was unfolding on the ground. Luckily for the men on the ground, there was one top brass that saw the signs, and acted on it. That was the overall situation for the men of the 1st Marine division and the 7th Army division in November 1950. While McArthur and his entourage were busying themselves with the planning of victory parades in Tokyo and promoting a 'Home by Christmas' atmosphere to the press, general O. P. Smith was already laying the ground work for what would determine the outcome of the Chosin reservoir campaign. In the surrounding snow covered hills and mountains, a vast number of Chinese soldiers from the 9th Army was being rushed into position to spring the trap that McArthur and Almond was walking into. What followed was a series of battles that was almost as brutal as the weather. I say almost, because the biggest killer of Chinese troops, wasn't American bombs and bullets, but the winter. One of the coldest in Korean history. Accompanied by the howling wind sweeping down from Manchuria and Siberia. Both sides made their share of mistakes. McArthur, for rejecting any intel showing that Chinese troopes were in Korea. General Song Shilun, who's troops had been told American soldiers were 'paper tigers'. As such, the PLA, anticipating a quick and easy victory, withheld winter cloths and issued only 2-3 days worth of rations while ordering their troops to make a 60 mile forced march from the border, across snow covered forests and mountains, to the reservoir. When the order to attack came, the troops were already in the early stages of starvation. Not only did the Marines held their ground, they annihilated the Chinese units. To make matters worse, their primitive means of communication made it impossible to coordinate their attacks. While as the Marines, despite being surrounded, was able to grind the Chinese units down through a combination of Marine Air Wing, combined arms and gung ho spirit. That, and general Smiths precautions allowd both the Marines and the Army units to fight their way out of a calamity caused by the prejudicial ignorance of McArthur and Almond.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on February 12, 2026
B
Verified Purchase
Bgsikes
Phoenix, US
★★★★★ 5
great
Format: Hardcover
great
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on March 10, 2026
R
Rebecca Hill
Massapequa, US
★★★★★ 4
Chilling History
Format: Hardcover
The police action in Korea began to heat up very quickly, as Chinese troops began to pour over the border, and take up defensive positions. The Marines that were deployed to the area had their hands full, trying to keep even more troops from crossing, while also defending the surrounding area. The horrific weather conditions, without the proper gear, and the determination of the Marines to refuse to give ground gave way to a very volatile situation. With temperatures continuing to plumate, the biggest enemy on either side was not munitions, it was frostbite and death. Many soldiers froze to death. Chinese soldiers were issued cold weather gear that was far below what was needed for the sub-zero temperatures of the region. Soldiers from the United States were not initially given the correct gear, although there was a push to get what was needed, but many still lost fingers and toes to frostbite. Medical units were also not fully prepared for the onslaught that was coming their way. Many found themselves overwhelmed with wounded, while low on supplies and materials. This was a great read, and a real eye-opener on the deprivations that were suffered by both sides during the beginning of the Korean War. Joseph Wheelan again brings a great amount of detail, both tactical and strategic, as we look at one of the more brutal aspects of the Korean War.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on January 26, 2026

recommand products